29 نومبر 2021 - 06:59
صدر رئیسی: ایران ایشیائی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو خصوصی ترجیح دیتا ہے

گذشتہ برسوں کے دوران ایکو تنظیم نے کافی ترقی کی ہے لیکن تنظیم کی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لایا گیا ہے۔ ایکو کی وسیع تجارتی صلاحیتوں کے برعکس، رکن ممالک کے درمیان تجارت کی سطح 10٪ سے کم ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر اسلامی جمہوریہ ایران آیت اللہ ڈاکٹر سید ابراہیم ر‏ئیسی، نے آج اتوار مورخہ 28 نومبر سنہ 2021ع‍ کو ترکمنستان کے دارالحکومت اشک آباد میں منعقدہ ایکو کے پندرہویں صدارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
۔ گذشتہ برسوں کے دوران ایکو تنظیم نے کافی ترقی کی ہے لیکن تنظیم کی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لایا گیا ہے۔ ایکو کی وسیع تجارتی صلاحیتوں کے برعکس، رکن ممالک کے درمیان تجارت کی سطح 10٪ سے کم ہے۔
امریکی پابندیاں خطے کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں 
- افغانستان میں سردی سے زیادہ تکلیف دہ نکتہ یہ ہے کہ اس ملک کے مالی وسائل کو قابض امریکیوں نے منجمد کرلیا ہے۔
- ایران خطے کے ممالک کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون کا ارادہ رکھتا ہے، اور امریکہ کی ظالمانہ پابندیاں اس ارادے میں خلل نہیں ڈال سکتیں۔
- ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی غیرقانونی علیحدگی سے ثابت ہؤا کہ امریکی مفادات ہمارے خطے کے ممالک کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ہمارا مشترکہ مفاد مفید اور بامقصد تعاون اور ہماری اقوام کی باہمی اخوت میں مضمر ہے۔
- اسلامی جمہوریہ ایران ایشیائی اور پڑوسی ممالک - خاص طور پر جنوبی ایشیا، مغربی ایشیا، وسطی ایشیا اور قفقاز - کے ساتھ تعاون اور فوجی شراکت کا قائل ہے۔
- بلاشبہ ہمارا عزم اور ہماری کوشش ہے کہ دوجہتی اور کثیرالجہتی تعاون کو آسان بنانے والی علاقائی تنظیموں کے کردار اور پوزیشن کو مضبوط بنائیں، جس کے واضح نمونوں میں سے ایک "اقتصادی تعاون تنظیم ایکو (ECO) ہے۔
- ایکو (ECO) کا مجموعہ طاقت کی تشکیل میں مؤثر خاص مادی خصوصیات - جیسے نصف ارب آبادی، توانائی کے عالمی ذخائر کے ایک تہائی حصے کی مالکیت، یورپ کے ساتھ چین کی اور خلیج فارس کے ساتھ روس کی منفرد مواصلاتی پوزیشن، نوجوان اور باصلاحیت افرادی قوت کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کے نام سے ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔
- ہم محض قابل اور با صلاحیت پڑوسی ہیں نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یں اسلامی ثقافت سے جنم لینے والے حقیقی تشخص کے وارث اور مروج بھی ہیں۔ اور یہ تشخص تابناک ترین انداز سے بنی نوع انسان کے مستتقبل کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے، اور ہمارے درمیان ہمہ جہتی تعاون کے پیکر کو روحانی بالیدگی اور روحانی نشاط سے بھی مالامال کرسکتا ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران اکو تنظیم نے کافی ترقی کی ہے لیکن تنظیم کی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لایا جا سکا ہے یہاں تک کہ اکو کی وسیع تجارتی صلاحیتوں کے برعکس، رکن ممالک کے درمیان تجارت کی سطح بدستور 10٪ سے کم ہے۔
- اسلامی جمہوریہ ایران ایک اہم ملک کے طور پر ایکو تنظیم میں تعاون کی سطح کی ارتقاء اور علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات میں اس تنظیم کا درجہ اور مقام بلند کرنے درپے ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس تنظیم کی معاشی چھلانگ کے لئے مؤثر اوزار اور وسائل دستیاب ہیں اور اگر رکن ممالک مشترکہ کوششوں کا اہتمام کریں تو یہ تنظیم ان ممالک کی مادی ترقی کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کی بھلائی کی بھی ضمانت دے سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242